Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
82 - 872
کے لئے تشریف لے گئیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والد ماجد کی باندی امِ ایمن 

بھی اس سفرمیں آپ کے ساتھ تھیں وہاں سے واپسی پر ''ابواء'' نامی گاؤں میں حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی وفات ہو گئی اور وہ وہیں مدفون ہوئیں۔ والد ماجد کا سایہ تو ولادت سے پہلے ہی اٹھ چکا تھا اب والدہ ماجدہ کی آغوش شفقت کا خاتمہ بھی ہو گیا۔ لیکن حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا یہ در یتیم جس آغوشِ رحمت میں پرورش پا کر پروان چڑھنے والاہے وہ ان سب ظاہری اسبابِ تربیت سے بے نیاز ہے۔(1)

حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد حضرت امِ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو مکہ مکرمہ لائیں اور آپ کے دادا عبدالمطلب کے سپرد کیا اور دادا نے آپ کو اپنی آغوش تربیت میں انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ پرورش کیااور حضرت امِ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی خدمت کرتی رہیں۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف آٹھ برس کی ہو گئی تو آپ کے دادا عبدالمطلب کا بھی انتقال ہو گیا۔(2)
ابو طالب کے پاس
عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا ابوطالب نے آپ کو اپنی آغوشِ تربیت میں لے لیا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نیک خصلتوں اور دل لبھا دینے والی بچپن کی پیاری پیاری اداؤں نے ابو طالب کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ مکان کے اندر اور باہر ہر وقت آپ کو اپنے ساتھ ہی
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ ، ذکر رضاعہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، ج۱،ص۸۸ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،ذکر وفاۃ امہ...الخ،ج۱،ص۳۵۳
Flag Counter