Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
813 - 872
وَکُنْ لِّیْ شَفِیْعًا یَوْمَ لَا ذُوْشَفَاعَۃٍ                 سِوَاکَ بِمُغْنٍ عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبٍ
    یعنی آپ اس دن میرے شفیع بن جائیے جس دن آپ کے سواسواد بن قارب کی نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہو گا نہ کوئی نفع پہنچانے والا ہو گا۔ اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت فرمایا ہے۔ (1) (الکلام المبین ص۸۷ بحوالہ بیہقی)
جنوں کا سلام و پیغام
    ابن سعد نے جعد بن قیس مرادی سے روایت کی ہے کہ ہم چار آدمی حج کا ارادہ کرکے اپنے وطن سے روانہ ہوئے یمن کے ایک جنگل میں ہم لوگ چل رہے تھے کہ ناگہاں اشعار پڑھنے کی آواز آئی ہم نے ان اشعار کو غور سے سنا تو ان کا مضمون یہ تھا کہ اے سوارو! جب تم لوگ زمزم اور حطیم پر پہنچو تو حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں ہمارا سلام عرض کر دینا جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہمارا یہ پیغام بھی پہنچا دینا کہ ہم آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کے فرماں بردار ہیں کیونکہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام نے ہم لوگوں کو اس بات کی وصیت فرمائی تھی۔ (یقینا یہ یمن کے جنگل میں رہنے والے جنوں کی آواز تھی۔ )(الکلام المبین ص۹۳ بحوالہ ابن سعد)
جن سانپ کی شکل میں آیا
    خطیب حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ ایک کھجور کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے کہ بالکل ہی اچانک ایک بہت بڑے کالے سانپ نے آپ کی طرف رُخ کیا،لوگوں نے اس کو مار ڈالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ نے فرمایا کہ اس کو
1۔۔۔۔۔۔ دلائل النبوۃ للبیہقی،جماع ابواب المبعث،حدیث سواد بن قارب...الخ،ج۲،ص۲۵۰
Flag Counter