| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دربار خلافت میں پہنچے تو انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اپنا یہ قطعہ پڑھا کہ ؎
اَنَا ابْنُ الَّذِیْ سَالَتْ عَلَی الْخَدِّ عَیْنُہٗ فَرُدَّتْ بِکَفِّ الْمُصْطَفٰی اَحْسَنَ الرَدّٖ فَعَادَتْ کَمَا کَانَتْ لِاَوَّلِ اَمْرِھَا فَیَا حُسْنَ مَا عَیْنٍ وَّ یَا حُسْنَ مَا رَدّٖ
یعنی میں اس شخص کا بیٹا ہوں کہ جس کی آنکھ اس کے رخسار پر بہ آئی تھی تو حضرت مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے وہ اپنی جگہ پر کیا ہی اچھی طرح سے رکھ دی گئی تو پھر وہ جیسی پہلے تھی ویسی ہی ہو گئی تو کیا ہی اچھی وہ آنکھ تھی اور کیا ہی اچھا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس آنکھ کو اس کی جگہ رکھنا تھا۔(1)(الکلام المبین ص۸۹)
قے میں کالا پِلّا گرا
ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر حضور رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )میرے اس بچے پر صبح و شام جنون کا دورہ پڑتا ہے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس بچے کے سینے پر اپنا دستِ رحمت پھیر دیا اور دعا دی تو اس بچے کو ایک زوردار قے ہوئی اور ایک کالے رنگ کا (کتے کا) پِلاّ قے میں گرا جو دوڑتا پھر رہا تھا اور بچہ شفایاب ہو گیا۔ (2)(مشکوٰۃ جلد۲ ص۵۴۱ معجزات)
جنون اچھا ہو گیا
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک سفر میں رسول
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب ، باب غزوۃ احد ، ج۲، ص ۴۳۳ و الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ،حرف القاف، قتادۃ بن النعمان ، ج۳، ص ۳۳۹ 2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح ،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق،باب فی المعجزات،الحدیث:۵۹۲۳، ج۲، ص۳۹۴