نے آج تک اس سے بڑھ کر اور اس سے بہتر کلام کبھی نہیں سنا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ یہ قبیلہ بنی سلیم کا ایک مفلس انسان ہے تم لوگ اس کی مالی امداد کر دو۔یہ سن کر بہت سے لوگوں نے اس کو بہت کچھ دیا یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو دس گابھن اونٹنیاں دیں۔ یہ اعرابی تمام مال و سامان کو ساتھ لے کر جب اپنے گھر کی طرف چلا تو راستے میں دیکھا کہ اس کی قوم بنی سلیم کے ایک ہزار سوار نیزہ اور تلوار لئے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ اس نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں کے لئے اور کس ارادہ سے چلے ہو؟ سواروں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس شخص سے لڑنے کے لئے جا رہے ہیں جو یہ گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے اور ہمارے دیوتاؤں کو برا بھلا کہتا ہے۔ یہ سن کر اعرابی نے بلند آواز سے کلمہ پڑھا اور اپنا سارا واقعہ ان سواروں سے بیان کیا۔ ان سواروں نے جب اعرابی کی زبان سے اس کا ایمان افروز بیان سنا تو سب نے