Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
78 - 872
شق صدر
ایک دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واالہ وسلم چراگاہ میں تھے کہ ایک دم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک فرزند ''ضمرہ ''دوڑتے اور ہانپتے کانپتے ہوئے اپنے گھر پر آئے 

اور اپنی ماں حضرت بی بی حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے کہا کہ اماں جان! بڑا غضب ہو گیا، محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تین آدمیوں نے جو بہت ہی سفید لباس پہنے ہوئے تھے،چت لٹا کر ان کا شکم پھاڑ ڈالا ہے اور میں اسی حال میں ان کو چھوڑ کر بھاگا ہوا آیا ہوں۔ یہ سن کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور ان کے شوہر دونوں بدحواس ہو کر گھبرائے ہوئے دوڑ کر جنگل میں پہنچے تو یہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر خوف و ہراس سے چہرہ زرد اور اداس ہے،حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہرنے انتہائی مشفقانہ لہجے میں پیار سے چمکار کر پوچھا کہ بیٹا! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخص جن کے کپڑے بہت ہی سفیداور صاف ستھرے تھے میرے پاس آئے اور مجھ کو چت لٹا کر میرا شکم چاک کرکے اس میں سے کوئی چیز نکال کر باہر پھینک دی اور پھر کوئی چیز میرے شکم میں ڈال کرشگاف کو سی دیالیکن مجھے ذرہ برابر بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ (1)(مدارج النبوۃ ج2 ص21)

یہ واقعہ سن کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور ان کے شوہر دونوں بے حد گھبرائے اور شوہر نے کہا کہ حلیمہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے ڈر ہے کہ ان کے اوپر شاید کچھ آسیب کا اثر ہے لہٰذا بہت جلد تم ان کو ان کے گھر والوں کے پاس چھوڑ آؤ۔ اس کے
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم دوم، باب اول، ج۲،ص۲۱ملخصاً والمواہب اللدنیۃ ، ذکر رضاعہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۱،ص۸۲
Flag Counter