Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
762 - 872
پائی تو ہم لوگوں کو معلوم ہواکہ وہ اختیار دیا ہوا بندہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم لوگوں میں سے سب سے زیادہ علم والے تھے۔

( کیونکہ انہوں نے ہم سب لوگوں سے پہلے یہ جان لیا تھا کہ وہ اختیار دیا ہوا بندہ خود حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہی ہیں۔)(1)

     (بخاری جلد ۱ ص ۵۱۹ باب قول النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سدواالابواب الخ)
حضرت عمرو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہماشہید ہوں گے
    حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت ابو بکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر اُحد پہاڑ پر چڑھے۔ اس وقت پہاڑ ہلنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اے احد!ٹھہر جااور یقین رکھ کہ تیرے اوپر ایک نبی ہے ایک صدیق ہے اور دو (عمرو عثمان) شہید ہیں۔(2)   (بخاری جلد ۱ ص ۵۱۹ باب فضل ابی بکر)

    نبی اور صدیق کو تو سب جانتے تھے لیکن حضرت عمر اورحضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی شہادت کے بعد سب کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ دو شہید کون تھے۔
حضرت عماررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت ملے گی
    حضرت ابو سعید خدری و حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خندق کھود رہے تھے اس وقت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عمار
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب فضائل ا صحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب قول النبی سدوا الابواب ...الخ، الحدیث:۳۶۵۴،ج۲،ص۵۱۷ 

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب قول النبی لوکنت متخذا...الخ، الحدیث: ۳۶۷۵، ج۲،ص۵۲۴
Flag Counter