Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
759 - 872
فرمایا اور محمود غزنوی و شہاب الدین غوری نے ہندوستان کے سومنات و اجمیر وغیرہ پر جہاد کرکے اس ملک میں اسلام کا پرچم لہرایا۔یہاں تک کہ سرزمین ہند میں ناگالینڈ کی پہاڑیوں سے کوہ ہندوکش تک اور راس کماری سے ہمالیہ کی چوٹیوں تک اسلام کا پرچم لہرا چکا ۔حالانکہ مخبر صادق صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ پیشین گوئی اس وقت دی تھی جب اسلام سرزمین حجاز سے بھی آگے نہیں پہنچ پایا تھا۔ ان غیب کی خبروں کو لفظ بلفظ پورا ہوتے ہوئے دیکھ کر کون ہے جو غیب داں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں اس طرح نذرانہ عقیدت نہ پیش کریگا کہ    ؎

                 سرعرش پر ہے تری گزر دل فرش پر ہے تری نظر

                ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جوتجھ پہ عیاں نہیں

                                                  (اعلیٰ حضر ت بریلوی علیہ الرحمۃ)
کون کہاں مرے گا
    جنگ ِبدر میں لڑائی سے پہلے ہی حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صحابہ کو لے کر میدان جنگ میں تشریف لے گئے اور اپنی چھڑی سے لکیر کھینچ کھینچ کربتایا کہ یہ فلاں کافر کی قتل گاہ ہے۔ یہ ابوجہل کا مقتل ہے۔ اس جگہ قریش کافلاں سردار مارا جائے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کابیان ہے کہ ہر سردار قریش کے قتل ہونے کے لیے آپ نے جو جو جگہیں مقرر فرما دی تھیں اسی جگہ اس کافر کی لاش خاک و خون میں لتھڑی ہوئی پائی گئی۔(1)(مسلم جلد ۲ ص ۱۰۲ باب غزوہ بدر)
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم ،کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ بدر ، الحدیث:۱۷۷۹،ص۹۸۱
Flag Counter