Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
745 - 872
    مسلمان جن نامساعد حالات اور پریشان کن ماحول کی کشمکش میں مبتلا تھے ان حالات میں خلافتِ ارض اور دین و دنیا کی شہنشاہی کی یہ عظیم بشارت انتہائی حیرت ناک خبر تھی بھلا کون تھا جو یہ سوچ سکتا تھا کہ مسلمانوں کا ایک مظلوم و بے کس گروہ جس کو کفار مکہ نے طرح طرح کی اذیتیں دے کر کچل ڈالا تھا اور اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر مدینہ آ کر چند نیک بندوں کے زیرسایہ پناہ لی تھی اور اس کو یہاں آ کر بھی سکون و اطمینان کی نیند نصیب نہیں ہوئی تھی بھلا ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ اس گروہ کو ایسی شہنشاہی مل جائے گی کہ خدا کے آسمان کے نیچے اور خدا کی زمین پر خدا کے سواان کو کسی اور کا ڈر نہ ہوگا۔بلکہ ساری دنیا ان کے جاہ و جلال سے ڈر کر لرزہ براندام رہے گی مگر ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ بشارت پوری ہوئی اور ان مسلمانوں نے شہنشاہ بن کر دنیا پر اس طرح کامیاب حکومت کی کہ اس کے سامنے دنیا کی تمام متمدن حکومتو ں کا شیرازہ بکھر گیااور تمام سلاطین عالم کی سلطانی کے پرچم عظمت اسلام کی شہنشاہی کے آگے سرنگوں ہوگئے۔کیا اب بھی کسی کو اس پیشین گوئی کی صداقت میں بال کے کروڑویں حصہ کے برابر بھی شک و شبہ ہو سکتا ہے۔
فتح مکہ کی پیشگوئی
    حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے اس طرح ہجرت فرمائی تھی کہ رات کی تاریکی میں اپنے یارِغار کے ساتھ نکل کر غار ثور میں رونق افروز رہے۔ آپ کی جان کے دشمنوں نے آپ کی تلاش میں سرزمین مکہ کے چپے چپے کو چھان مارا اور آپ ان دشمنوں کی نگاہوں سے چھپتے اور بچتے ہوئے غیر معروف راستوں سے مدینہ منورہ پہنچے۔ ان حالات میں بھلا کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ آ سکتا تھا کہ رات
Flag Counter