Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
740 - 872
    اﷲ اکبر! قرآن عظیم کی عظیم الشان و معجزانہ فصاحت و بلاغت کا بول بالا تو دیکھو کہ عرب کے تمام وہ فصحاء و بلغاء جن کی فصیحانہ شعر گوئی اور خطیبانہ بلاغت کا چار دانگ عالم میں ڈنکا بج رہا تھا مگر وہ اپنی پوری پوری کوششوں کے باوجود قرآن کی ایک سورۃ کے مثل بھی کوئی کلام نہ لا سکے۔ حد ہوگئی کہ قرآن مجید نے فصحاء عرب سے یہاں تک کہہ دیا کہ
فَلْیَاۡتُوۡا بِحَدِیۡثٍ مِّثْلِہٖۤ اِنۡ کَانُوۡا صٰدِقِیۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾ (1)
یعنی اگر کفار عرب سچے ہیں تو قرآن جیسی کوئی ایک ہی بات لائیں۔(سورہ طور)

    الغرض چار چار مرتبہ قرآن کریم نے فصحاء عرب کو للکارا، چیلنج دیا، جھنجھوڑا کہ وہ قرآن کامثل بنا کر لائیں ۔مگر تاریخ عالم گواہ ہے کہ چودہ سو برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک کوئی شخص بھی اس خداوندی چیلنج کو قبول نہ کر سکا اور قرآن کے مثل ایک سورۃ بھی بنا کر نہ لا سکا۔ یہ آفتاب سے زیادہ روشن دلیل ہے کہ قرآن مجید حضور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایک لاثانی معجزہ ہے جس کا مقابلہ نہ کوئی کر سکا ہے نہ قیامت تک کر سکتا ہے۔
علم غیب
    حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے معجزات میں سے آپ کا ''علم غیب'' بھی ہے ۔اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ علم غیب ذاتی تو خدا کے سوا کسی اور کو نہیں مگر اﷲ اپنے برگزیدہ بندوں یعنی اپنے نبیوں اور رسولوں وغیرہ کو علم غیب عطا فرماتا ہے۔ یہ علم غیب عطائی کہلاتا ہے قرآن مجید میں ہے کہ
1۔۔۔۔۔۔پ۲۷،الطور:۳۴
Flag Counter