| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
امام علائی نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ معراج میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پانچ قسم کی سواریوں پر سفر فرمایا مکہ سے بیت المقدس تک براق پر،بیت المقدس سے آسمان اول تک نور کی سیڑھیوں پر، آسمان اول سے ساتویں آسمان تک فرشتوں کے بازوؤں پر، ساتویں آسمان سے سدرۃ المنتہیٰ تک حضرت جبریل علیہ السلام کے بازو پر، سدرۃ المنتہیٰ سے مقام قاب قوسین تک رفرف پر۔(1) (تفسیر روح المعانی جلد ۱۵ ص ۱۰)
سفر معراج کی منزلیں
بیت المقدس سے مقام قاب قوسین تک پہنچنے میں آپ نے دس منزلوں پر قیام فرمایا اور ہر منزل پر کچھ گفتگو ہوئی اور بہت سی خداوندی نشانیوں کو ملاحظہ فرمایا۔ (۱)آسمان اول (۲)دوسراآسمان (۳)تیسراآسمان (۴)چوتھاآسمان (۵) پانچواں آسمان (۶) چھٹاآسمان (۷) ساتواں آسمان (۸)سدرۃ المنتہیٰ (۹) مقام مستویٰ جہاں آپ نے قلم قدرت کے چلنے کی آوازیں سنیں (۱۰) عرش اعظم (2)(تفسیر روح المعانی جلد ۱۵ ص ۱۰)
بادل کٹ گیا
حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ عرب میں نہایت ہی سخت قسم کا قحط پڑا ہوا تھا اس وقت جب کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خطبہ کے لیے منبر پر
1۔۔۔۔۔۔تفسیرروح المعانی،پ۱۵، الاسرائ،تحت الایۃ: ۱، ج۱۵،ص۱۴ 2۔۔۔۔۔۔تفسیرروح المعانی ،پ۱۵،الاسرائ،تحت الایۃ:۱،ج۱۵، ص ۱۵ملخصاً