Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
67 - 872
بشارت دینے لگے کہ اب رسالت کا آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہونے والا ہے۔

چنانچہ اصحابِ فیل کی ہلاکت کا واقعہ، ناگہاں بارانِ رحمت سے سرزمین عرب کا سر سبز و شاداب ہو جانا،اور برسوں کی خشک سالی دفع ہو کر پورے ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو جانا، بتوں کا منہ کے بل گر پڑنا، فارس کے مجوسیوں کی ایک ہزار سال سے جلائی ہوئی آگ کا ایک لمحہ میں بجھ جانا، کسریٰ کے محل کا زلزلہ، اور اس کے چودہ کنگوروں کا منہدم ہو جانا،''ہمدان'' اور ''قم'' کے درمیان چھ میل لمبے چھ میل چوڑے ''بحرهٔ ساوہ'' کا یکایک بالکل خشک ہو جانا، شام اور کوفہ کے درمیان وادی ''سماوہ'' کی خشک ندی کا اچانک جاری ہو جانا،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی والدہ کے بدن سے ایک ایسے نور کا نکلنا جس سے ''بصریٰ''کے محل روشن ہو گئے۔یہ سب 

واقعات اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں جو حضور علیہ الصلوات والتسلیمات کی تشریف آوری سے پہلے ہی ''مبشرات'' بن کر عالم کائنات کو یہ خوشخبری دینے لگے کہ(1) ؎

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہرآنے والا ہے 

گدائی کو زمانہ جس کے در پر آنے والا ہے 

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے قبل اعلان نبوت جو خلاف عادت اور عقل کو حیرت میں ڈالنے والے واقعات صادر ہوتے ہیں ان کو شریعت کی اصطلاح میں ''ارہاص'' کہتے ہیں اور اعلان نبوت کے بعد انہی کو ''معجزہ'' کہا جاتا ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا تمام واقعات ''ارہاص'' ہیں جو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃوشرح الزرقانی،ولادتہ...الخ، ج1،ص21831
Flag Counter