Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
664 - 872
حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ و حضرت حمزہ بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے ان کو قبر میں اتارا اوریہ جنت البقیع میں دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے پہلومیں مدفون ہوئیں۔ بوقت وفات ان کی عمر ساٹھ یا تریسٹھ برس کی تھی۔(1) (زرقانی جلد۳ ص۲۳۶ تا ۲۳۸)
حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    ان کا نام ہند ہے اور کنیت ''اُمِ سلمہ'' ہے مگر یہ اپنی کنیت کے ساتھ ہی زیادہ مشہور ہیں۔ ان کے باپ کا نام ''حذیفہ'' اور بعض مؤرخین کے نزدیک ''سہل'' ہے مگر اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ان کی والدہ ''عاتکہ بنت عامر'' ہیں۔ ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبداﷲ بن عبدالاسد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہوا تھاجو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آ گئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آ گئے اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔ چنانچہ حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابو سلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہر گز ہر گز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آ گیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ''سلمہ''کوہرگزہرگزتمہارے پاس نہیں
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب حفصۃ ام المؤمنین ، ج۴، ص ۳۹۳،۳۹۶
Flag Counter