| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی جسمانی طاقت بھی حد اعجاز کو پہنچی ہوئی تھی اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی اس معجزانہ طاقت و قوت سے ایسے ایسے محیر العقول کار ناموں اور کمالات کا مظاہرہ فرمایا کہ عقل انسانی اس کے تصورسے حیران رہ جاتی ہے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب خندق کھود رہے تھے ایک ایسی چٹان ظاہر ہو گئی جو کسی طرح کسی شخص سے بھی نہیں ٹوٹ سکی مگر جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی طاقت نبوت سے اس پر پھاوڑا مارا تو وہ ریت کے بھر بھرے ٹیلے کی طرح بکھر کر پاش پاش ہو گئی جس کا مفصل تذکرہ جنگ خندق میں ہم تحریر کر چکے ہیں۔(1)
رکانہ پہلوان سے کشتی
عرب کا مشہورپہلوان رکانہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اسلام کی دعوت دی وہ کہنے لگا کہ اے محمد!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر آپ مجھ سے کشتی لڑ کر مجھے پچھاڑ دیں تو میں آپ کی دعوت اسلام کو قبول کر لوں گا۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیار ہو گئے اور اس سے کشتی لڑ کر اس کو پچھاڑ دیا، پھر اس نے دوبارہ کشتی لڑنے کی دعوت دی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ بھی اپنی پیغمبرانہ طاقت سے اس کو اس زور کے ساتھ زمین پر پٹک دیا کہ وہ دیرتک اٹھ نہ سکا اور حیران ہو کر کہنے لگا کہ اے محمد !(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) خداکی قسم! آپ کی عجیب شان ہے کہ آج تک عرب کاکوئی پہلوان میری پیٹھ زمین پر نہیں لگا سکا مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دم زدن میں مجھے دو مرتبہ زمین پر پچھاڑ دیا۔ بعض مؤرخین کا قول ہے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق...الخ،الحدیث:۴۱۰۱،ج۳،ص۵۱