تشریف لے جاتے اور عذر پیش کرنے والوں کے عذر کو قبول فرماتے۔(1) (شفاء شریف جلد۱ ص۷۱)
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ اگر کوئی شخص حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کان میں کوئی سرگوشی کی بات کرتا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس وقت تک اپنا سر اس کے منہ سے الگ نہ فرماتے جب تک وہ کان میں کچھ کہتا رہتا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مجلس میں کبھی پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے ا ور جو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آتا آپ سلام کرنے میں پہل کرتے اور ملاقاتیوں سے مصافحہ فرماتے اور اکثر اوقات اپنے پاس آنے والے ملاقاتیوں کے لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی چادر مبارک بچھا دیتے اور اپنی مسند بھی پیش کر دیتے اور اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ان کی کنیتوں اور اچھے ناموں سے پکارتے کبھی کسی بات کرنے والے کی بات کو کاٹتے نہیں تھے۔ ہر شخص سے خوش روئی کے ساتھ مسکرا کر ملاقات فرماتے، مدینہ کے خدام اور نوکر چاکر برتنوں میں صبح کو پانی لے کر آتے تا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے برتنوں میں دست مبارک ڈبو دیں اور پانی متبرک ہو جائے توسخت جاڑے کے موسم میں بھی صبح کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہر ایک کے برتن میں اپنا مقدس ہاتھ ڈال دیا کرتے تھے اور جاڑے کی سردی کے باوجود کسی کومحروم نہیں فرماتے تھے۔ (2)
(شفاء شریف جلد۱ ص۷۲)
حضرت عمرو بن سائب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں ایک مرتبہ حضور صلی اﷲ