Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
60 - 872
سے بھر جاتا ہے ۔روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر فرشتوں نے غمگین ہو کر بڑی حسرت کے ساتھ یہ کہا کہ الٰہی !عزوجل تیرا نبی یتیم ہو گیا ۔حضرت حق نے فرمایا: کیا ہوا؟ میں اس کا حامی و حافظ ہوں ۔ (1)     (مدارج النبوۃ ج2 ص14)

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ترکہ ایک لونڈی ''اُم ایمن'' جس کا نام ''برکہ'' تھاکچھ اونٹ کچھ بکریاں تھیں،یہ سب ترکہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ملا۔ ''اُمِ ایمن'' بچپن میں حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کرتی تھیں کھلاتیں، کپڑا پہناتیں، پرورش کی پوری ضروریات مہیا کرتیں، اس لئے حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام عمر''اُم ایمن'' کی دل جوئی فرماتے رہے اپنے محبوب و متبنٰی غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا،اور ان کے شکم سے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے۔(2) (عامہ کتب سیر)
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا ایمان
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ وہ دونوں مؤمن ہیں یا نہیں؟بعض علماء ان دونوں کو مؤمن نہیں مانتے اور بعض علماء نے اس مسئلہ میں توقف کیا اور فرمایا کہ ان دونوں کو مؤمن یا 

کافر کہنے سے زبان کو روکنا چاہیے اور اس کا علم خدا عزوجل کے سپرد کر دینا چاہیے،مگر اہل سنت کے علماء محققین مثلاً امام جلال الدین سیوطی و علامہ ابن حجرہیتمی و امام قرطبی و حافظ الشام ابن ناصر الدین و حافظ شمس الدین د مشقی و قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی و شیخ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم دوم، باب اول ،ج2،ص14

2۔۔۔۔۔۔الاستیعاب، کتاب النساء وکناھن، باب الباء ،ج4،ص356ودلائل النبوۃ للبیہقی، باب ذکر رضاع النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرضعتہ ...الخ،ج1،ص150
Flag Counter