| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
مگر جیسا کہ ہم تحریر کر چکے کہ چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود ہی یہ وصیت فرما دی تھی کہ میرے غسل اور تجہیز و تکفین میرے اہل بیت ہی کریں ۔ پھرامیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی بحیثیت امیر المؤمنین ہونے کے یہی حکم دیا کہ ''یہ اہل بیت ہی کا حق ہے'' اس لئے حضرت عباس اوراہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کواڑ بند کرکے غسل دیا اور کفن پہنایا مگر شروع سے آخر تک خود حضرت امیر المؤمنین اور دوسرے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم حجرہ مقدسہ کے باہر حاضر رہے۔(1) (مدارج النبوۃ ج۲ص۴۳۷)
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ترکہ
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی اس قدر زاہدانہ تھی کہ کچھ اپنے پاس رکھتے ہی نہیں تھے۔ اس لئے ظاہر ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے وفات کے بعد کیا چھوڑا ہو گا؟ چنانچہ حضرت عمرو بن الحارث رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ
مَا تَرَکَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِہٖ دِرْھَمًا وَّلَا دِیْنَارًا وَّلَا عَبْدًا وَّلَا اَمَۃً وَّلَا شَیْئًا اِلَّا بَغَلَتَہٗ الْبَیْضَاءَ وَسِلَاحَہٗ وَ اَرْضًا جَعَلَھَا صَدَقَۃً ۔(2)
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ درہم و دینار چھوڑا نہ لونڈی و غلام نہ اور کچھ صرف اپنا سفید خچر اور ہتھیار اور کچھ زمین جو عام مسلمانوں پر صدقہ کر گئے چھوڑا تھا۔(بخاری ج۱ ص۳۸۲ کتاب الوصایا)
بہر حال پھر بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے متروکات میں تین چیزیں تھیں۔ (۱) بنو نضیر، فدک، خیبر کی زمینیں (۲) سواری کا جانور(۳) ہتھیار۔ یہ تینوں چیزیں قابل ذکر ہیں۔1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم چھارم،باب سوم،ج۲،ص۴۳۷،۴۳۸ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب الوصایا...الخ،الحدیث:۲۷۳۹،ج۲،ص۲۳۱