Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
54 - 872
شریف'' کا کنواں جو بالکل پٹ گیا تھا آپ ہی نے اس کو نئے سرے سے کھدوا کر درست کیا، اور لوگوں کو آب زمزم سے سیراب کیا۔ آپ بھی کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے۔اصحاب فیل کا واقعہ آپ ہی کے وقت میں پیش آیا ۔ایک سو بیس برس کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔(1)(زرقانی علی المواہب ج1 ص72)
اصحابِ فیل کا واقعہ
    حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیدائش سے صرف پچپن دن پہلے یمن کا بادشاہ ''ابرہہ'' ہاتھیوں کی فوج لے کر کعبہ ڈھانے کے لئے مکہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ''ابرہہ'' نے یمن کے دارالسلطنت ''صنعاء'' میں ایک بہت ہی شاندار اور عالی شان ''گرجاگھر'' بنایا اور یہ کوشش کرنے لگا کہ عرب کے لوگ بجائے خانہ کعبہ کے یمن آ کر اس گرجا گھر کا حج کیا کریں۔ جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو قبیلہ ''کنانہ'' کا ایک شخص غیظ و غضب میں جل بھن کر یمن گیا،اور وہاں کے گرجا گھر میں پاخانہ پھر کر اس کو نجاست سے لت پت کر دیا۔ جب ابرہہ نے یہ واقعہ سنا تو وہ طیش میں آپے سے باہر ہو گیا اور خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لئے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ پر حملہ کر دیا۔ اور اس کی فوج کے اگلے دستہ نے مکہ والوں کے تمام اونٹوں اور دوسرے مویشیوں کو چھین لیا اس میں دو سو یا چار سو اونٹ عبدالمطلب کے بھی تھے۔ (2)
(زرقانی ج1 ص85)
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی...الخ، ج1، ص135۔138مختصراً والمواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی...الخ ،ج1،ص155

2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،المقصد الاول،عام الفیل وقصۃ ابرھۃ،ج1،ص156۔158ملتقطاً
Flag Counter