Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
522 - 872
صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پھر اپنی قوم میں چلے جاؤ اور نرمی کے ساتھ ان کو خدا کی طرف بلاتے رہو۔ چنانچہ یہ پھر اپنی قوم میں آ گئے اور لگاتار اسلام کی دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ ستر یا اسی گھرانوں میں اسلام کی روشنی پھیل گئی اور یہ ان سب لوگوں کو ساتھ لے کر خیبر میں تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوش ہو کر خیبر کے مال غنیمت میں سے ان سب لوگوں کو حصہ عطا فرمایا۔(1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۷۰)
وفد بنی عبس
    قبیلہ بنی عبس کے وفد نے دربار اقدس میں جب حاضری دی تو یہ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمارے مبلغین نے ہم کو خبر دی ہے کہ جو ہجرت نہ کرے اس کا اسلام مقبول ہی نہیں ہے تو یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر آپ حکم دیں تو ہم اپنے سارے مال و متاع اور مویشیوں کو بیچ کر ہجرت کرکے مدینہ چلے آئیں۔یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں کے لئے ہجرت ضروری نہیں۔ ہاں!یہ ضروری ہے کہ تم جہاں بھی رہو خدا سے ڈرتے رہو اور زہد و تقویٰ کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہو۔(2) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۷۰)
وفد دارم
    یہ وفد دس آدمیوں کا ایک گروہ تھا جن کا تعلق قبیلہ ''لخم'' سے تھا اور ان کے سربراہ اور پیشوا کا نام ''ہانی بن حبیب'' تھا۔ یہ لوگ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے تحفے
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب الوفد الثالث عشر، وفددوس،ج۵،ص۱۸۰۔۱۸۵

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب الوفد الحادی والثلا ثون، وفد بنی عبس، 

ج۵، ص۲۲۴
Flag Counter