Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
52 - 872
عرب ان کو ''قریش'' کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ اس بارے میں ''شمرخ بن عمرو حمیری'' کا شعر بہت مشہور ہے کہ ؎
وَ قُرَیْشٌ ھِیَ الَّتِیْ تَسْکُنُ الْبَحْرَ 		بِھَا سُمِّیَتْ قُرَیْشٌ قُرَیْشًا
    یعنی ''قریش'' ایک جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔اسی کے نام پر قبیلۂ قریش کا نام ''قریش '' رکھ دیا گیا۔(1)
(زرقانی علی المواہب ج 1 ص76)
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماں باپ دونوں کا سلسلۂ نسب ''فہر بن مالک'' سے ملتا ہے اس لئے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ماں باپ دونوں کی طرف سے ''قریشی'' ہیں۔
ہاشم
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پردادا ''ہاشم'' بڑی شان و شوکت کے مالک تھے۔ ان کا اصلی نام ''عمرو'' تھا انتہائی بہادر ،بے حد سخی، اور اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے۔ ایک سال عرب میں بہت سخت قحط پڑ گیااور لوگ دانے دانے کو محتاج ہو گئے تو یہ ملکِ شام سے خشک روٹیاں خرید کر حج کے دنوں میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورا کرکے اونٹ کے گوشت کے شوربے میں ثرید بنا کر تمام حاجیوں کو خوب پیٹ بھر کر کھلایا۔اس دن سے لوگ ان کو''ہاشم''(روٹیوں کاچورا کرنے والا)کہنے لگے۔(2)
   ( مدارج النبوۃ ج2 ص8)
چونکہ یہ ''عبدمناف'' کے سب لڑکوں میں بڑے اور با صلاحیت تھے اس لئے
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی...الخ،ج1،ص144

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم اول ، باب اول ، ج2،ص8وشرح الزرقانی علی المواھب، المقصد الاو ل فی تشریف اللہ تعالٰی...الخ ،ج1،ص138
Flag Counter