Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
501 - 872
    حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ان کے دفن کا عجیب منظر تھا کہ حضرت بلال مؤ ذن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہاتھ میں چراغ لئے ان کی قبر کے پاس کھڑے تھے اور خود بہ نفس نفیس حضور ِاکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی قبر میں اترے اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حکم دیا کہ تم دونوں اپنے اسلامی بھائی کی لاش کو اٹھاؤ۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو اپنے دستِ مبارک سے لحد میں سلایا اور خود ہی قبر کو کچی اینٹوں سے بند فرمایا اور پھر یہ دعا مانگی کہ یااﷲ! میں ذوالبجادین سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔

    حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفن کا یہ منظر دیکھا تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا کہ کاش! ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جگہ یہ میری میت ہوتی۔ (1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۵۰ و ص۳۵۱)
مسجد ضرار
    منافقوں نے اسلام کی بیخ کنی اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے مسجد قباء کے مقابلہ میں ایک مسجد تعمیر کی تھی جو در حقیقت منافقین کی سازشوں اور ان کی دسیسہ کاریوں کا ایک زبردست اڈہ تھا۔ ابو عامر راہب جو انصار میں سے عیسائی ہو گیا تھا جس کا نام حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابو عامر فاسق رکھا تھا اس نے منافقین سے کہا کہ تم لوگ خفیہ طریقے پر جنگ کی تیاریاں کرتے رہو۔ میں قیصر روم کے پاس جاکر وہاں سے فوجیں لاتا ہوں تا کہ اس ملک سے اسلام کا نام و نشان مٹا دوں۔ چنانچہ اسی مسجد میں بیٹھ بیٹھ کر اسلام کے خلاف منافقین کمیٹیاں کرتے تھے اور اسلام و بانئ اسلام
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب نہم،ج۲،ص۳۵۰
Flag Counter