Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
499 - 872
    جب آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ کی سرزمین میں قدم رکھا تو عورتیں، بچے اور لونڈی غلام سب استقبال کے لئے نکل پڑے اور استقبالیہ نظمیں پڑھتے ہوئے آپ کے ساتھ مسجد نبوی تک آئے۔ جب آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد نبوی میں دو رکعت نماز پڑھ کر تشریف فرما ہو گئے۔ تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا اور اہل مدینہ نے بخیر و عافیت اس دشوار گزار سفر سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر انتہائی مسرت و شادمانی کا اظہار کیااور ان منافقین کے بارے میں جو جھوٹے بہانے بنا کر اس جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے اور بارگاہ نبوت میں قسمیں کھا کھا کر عذر پیش کر رہے تھے قہرو غضب میں بھری ہوئی قرآن مجید کی آیتیں نازل ہوئیں اوران منافقوں کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔(1)
ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر
    غزوۂ تبوک میں بجز ایک حضرت ذوالبجادین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نہ کسی صحابی کی شہادت ہوئی نہ وفات۔ حضرت ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کون تھے؟ اور ان کی وفات اور دفن کا کیسا منظر تھا؟ یہ ایک بہت ہی ذوق آفریں اور لذیذ حکایت ہے۔ یہ قبیلہ مزینہ کے ایک یتیم تھے اور اپنے چچا کی پرورش میں تھے۔ جب یہ سن شعور کو پہنچے اور اسلام کا چرچا سنا تو اِن کے دل میں بت پرستی سے نفرت اور اسلام قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ مگر ان کا چچا بہت ہی کٹر کافر تھا۔ اس کے خوف سے یہ اسلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد جب لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے تو انہوں نے
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴،ص۱۰۰،۱۰۴ملخصاً
Flag Counter