Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
496 - 872
اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ ایک شخص ایسا ایسا کہتا ہے حالانکہ خدا کی قسم! اﷲ تعالیٰ کے بتا دینے سے میں خوب جانتا ہوں کہ میری اونٹنی کہاں ہے؟ وہ فلاں گھاٹی میں ہے اور ایک درخت میں اس کی مہار کی رسی اُلجھ گئی ہے۔ تم لوگ جاؤ اور اس اونٹنی کو میرے پاس لے کر آ جاؤ۔ جب لوگ اس جگہ گئے تو ٹھیک ایسا ہی دیکھا کہ اسی گھاٹی میں وہ اونٹنی کھڑی ہے اور اس کی مہار ایک درخت کی شاخ میں الجھی ہوئی ہے۔(1)         (زرقانی ج۳ ص۷۵)
تبوک کا چشمہ
    جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تبوک کے قریب میں پہنچے تو ارشاد فرمایا کہ ان شاء اﷲ تعالیٰ کل تم لوگ تبوک کے چشمہ پر پہنچو گے اور سورج بلند ہونے کے بعد پہنچو گے لیکن کوئی شخص وہاں پہنچے تو پانی کو ہاتھ نہ لگائے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب وہاں پہنچے تو جوتے کے تسمے کے برابر اس میں ایک پانی کی دھار بہہ رہی تھی۔ آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس میں سے تھوڑا سا پانی منگا کر ہاتھ منہ دھویا اور اس پانی میں کلی فرمائی۔ پھر حکم دیا کہ اس پانی کو چشمہ میں انڈیل دو۔ لوگوں نے جب اس پانی کو چشمہ میں ڈالا تو چشمہ سے زوردار پانی کی موٹی دھار بہنے لگی اور تیس ہزار کا لشکر اور تمام جانور اس چشمہ کے پانی سے سیراب ہو گئے۔(2) (زرقانی ج۳ ص۷۶)
رومی لشکر ڈر گیا
    حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تبوک میں پہنچ کر لشکر کو پڑاؤ کا حکم دیا۔ مگر
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی ، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴،ص۸۹

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴،ص۹۰
Flag Counter