Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
494 - 872
بے حد تکلیف اٹھائی مگر منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لیا۔(1)
راستے کے چند معجزات
    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ سب سے الگ الگ چل رہے ہیں۔ تو ارشاد فرمایا کہ یہ سب سے الگ ہی چلیں گے اور الگ ہی زندگی گزاریں گے اور الگ ہی وفات پائیں گے۔ چنانچہ ٹھیک ایسا ہی ہوا کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو حکم دے دیا کہ آپ ''ربذہ'' میں رہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ربذہ میں اپنی بیوی اور غلام کے ساتھ رہنے لگے۔ جب وفات کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم دونوں مجھ کو غسل دے کر اور کفن پہنا کر راستہ میں رکھ دینا۔ جب شترسواروں کا پہلا گروہ میرے جنازہ کے پاس سے گزرے تو تم لوگ اس سے کہنا کہ یہ ابو ذرغفاری کا جنازہ ہے ان پر نماز پڑھ کر ان کو دفن کرنے میں ہماری مدد کرو۔ خداعزوجل کی شان کہ سب سے پہلا جو قافلہ گزرا اس میں حضرت عبداﷲ بن مسعود صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ سنا کہ یہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا جنازہ ہے۔ توانہوں نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھااورقافلہ کوروک کراتر پڑے اور کہا کہ بالکل سچ فرمایا تھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے کہ''اے ابوذر! تو تنہا چلے گا، تنہا مرے گا،تنہا قبر سے اُٹھے گا۔''پھر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور قافلہ والوں نے ان کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا۔(2)  (سیرت ابن ہشام ج۴ص۵۲۴ و زرقانی ج۳ ص۷۴)
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴، ص۸۵

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴، ص۸۳
Flag Counter