Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
474 - 872
جویریہ'' رضی اﷲ تعالیٰ عنہا قبیلہ بنی المصطلق کے سردار اعظم حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں۔ ''حضرت صفیہ'' رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بنو نضیر اور خیبر کے رئیس اعظم حیی بن اخطب کی نور نظر تھیں۔ ''حضرت عائشہ'' رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی پیاری بیٹی تھیں۔'' حضرت حفصہ'' رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی چہیتی صاحبزادی تھیں۔ ''حضرت زینب بنت جحش'' اور'' حضرت اُمِ سلمہ'' رضی اﷲ تعالیٰ عنہما بھی خاندانِ قریش کے اونچے اونچے گھروں کی ناز و نعمت میں پلی ہوئی لڑکیاں تھیں۔ ظاہر ہے کہ یہ امیر زادیاں بچپن سے امیرانہ زندگی اور رئیسانہ ماحول کی عادی تھیں اور ان کا رہن سہن، خوردونوش، لباس و پوشاک سب کچھ امیرزادیوں کی رئیسانہ زندگی کا آئینہ دار تھااور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی بالکل ہی زاہدانہ اور دنیوی تکلفات سے یکسر بے گانہ تھی۔ دو دو مہینے کا شانہ نبوت میں چولھا نہیں جلتا تھا۔ صرف کھجور اور پانی پر پورے گھرانے کی زندگی بسر ہوتی تھی۔ لباس و پوشاک میں بھی پیغمبرانہ زندگی کی جھلک تھی مکان اور گھر کے سازو سامان میں بھی نبوت کی سادگی نمایاں تھی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے سرمایہ کا اکثر و بیشتر حصہ اپنی امت کے غربا و فقراء پر صرف فرما دیتے تھے اور اپنی ازواجِ مطہرات کو بقدرِ ضرورت ہی خرچ عطا فرماتے تھے جو ان رئیس زادیوں کے حسب خواہ زیب و زینت اور آرائش و زیبائش کے لئے کافی نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے کبھی کبھی ان امت کی ماؤں کا پیمانہ صبرو قناعت لبریز ہو کر چھلک جاتا تھا اور وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے مزید رقموں کا مطالبہ اور تقاضا کرنے لگتی تھیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن نے متفقہ طور پر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے اخراجات میں اضافہ فرمائیں۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن