Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
440 - 872
کرکے تہس نہس کر ڈالیں گی ان مجرموں کے سینوں میں خوف وہراس کا طوفان اُٹھ رہا تھا۔ دہشت اور ڈر سے ان کے بدنوں کی بوٹی بوٹی پھڑک رہی تھی،دل دھڑک رہے تھے، کلیجے منہ میں آگئے تھے اور عالم یاس میں انہیں زمین سے آسمان تک دھوئیں ہی دھوئیں کے خوفناک بادل نظر آرہے تھے۔ اسی مایوسی اور ناامیدی کی خطرناک فضا میں ایک دم شہنشاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نگاہ رحمت ان پاپیوں کی طرف متوجہ ہوئی۔ اور ان مجرموں سے آپ نے پوچھا کہ

''بولو! تم کو کچھ معلوم ہے ؟کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں۔''

    اس دہشت انگیز اور خوفناک سوال سے مجرمین حواس باختہ ہو کر کانپ اُٹھے لیکن جبین رحمت کے پیغمبرانہ تیور کو دیکھ کر اُمید و بیم کے محشر میں لرزتے ہوئے سب یک زبان ہوکر بولے کہ
اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ
آپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں۔

سب کی للچائی ہوئی نظریں جمال نبوت کا منہ تک رہی تھیں ۔اور سب کے کان شہنشاہ نبوت کا فیصلہ کن جواب سننے کے منتظر تھے کہ اک دم دفعۃً فاتح مکہ نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ
لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ(1) (زرقانی ج ۲ ص ۳۲۸)
آج تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔

بالکل غیرمتوقع طورپر ایک دم اچانک یہ فرمان رسالت سن کر سب مجرموں کی آنکھیں فرط ندامت سے اشکبار ہوگئیں اور ان کے دلوں کی گہرائیوں سے جذبات
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۴۴۹
Flag Counter