| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
یہی وجہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کرتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ ''السلام علیک یا ابن ذی الجناحین'' یعنی اے دو بازوؤں والے کے فرزند!تم پر سلام ہو۔ (1) (بخاری ج ۲ ص ۶۱۱ غزوۂ موتہ) جنگ موتہ اور فتح مکہ کے درمیان چند چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کفار کی مدافعت کے لئے مختلف مقامات پر بھیجا۔ ان میں سے بعض لشکروں کے ساتھ کفار کا ٹکراؤ بھی ہوا جن کا مفصل تذکرہ زرقانی و مدارج النبوۃ وغیرہ میں لکھا ہوا ہے۔ ان سریوں کے نام یہ ہیں۔ ذات السلاسل۔ سریۃ الخبط۔ سریہ ابوقتادہ(نجد)۔ سریہ ابوقتادہ(صنم)مگران سریوں میں ''سریۃ الخبط'' زیادہ مشہور ہے جس کا مختصر بیان یہ ہے:
سریۃ الخبط
اس سریہ کو حضرت امام بخاری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ''غزوہ سیف البحر'' کے نام سے ذکر کیا ہے۔ رجب ۸ ھ میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تین سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لشکر پر امیر بناکر ساحل سمندر کی جانب روانہ فرمایاتاکہ یہ لوگ قبیلہ جہینہ کے کفار کی شرارتوں پر نظر رکھیں اس لشکر میں خوراک کی اس قدر کمی پڑگئی کہ امیرلشکر مجاہدین کو روزانہ ایک ایک کھجور راشن میں دیتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آگیا کہ یہ کھجوریں بھی ختم ہوگئیں اور لوگ بھوک سے بے چین ہوکر درختوں کے پتے کھانے لگے یہی وجہ ہے کہ عام طورپر مؤرخین
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی،باب غزوۃ موتۃ من ارض الشام، الحدیث:۴۲۶۴، ج۳،ص۹۷