| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
(۳)حضرت عبداللہ بن رواحہ (۴)حضرت مسعود بن اوس (۵)حضرت وہب بن سعد (۶)حضرت عباد بن قیس (۷)حضرت حارث بن نعمان (۸)حضرت سراقہ بن عمر (۹)حضرت ابوکلیب بن عمر (۱۰)حضرت جابر بن عمر (۱۱) حضرت عمر بن سعد (۱۲)حضرت ہو بجہ ضبی(1) (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) (زُرقانی ج۲ص ۲۷۳) اسلامی لشکر نے بہت سے کفار کو قتل کیا اور کچھ مال غنیمت بھی حاصل کیا اور سلامتی کے ساتھ مدینہ واپس آگئے۔
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ موتۃ من ارض الشام،الحدیث:۴۲۶۵، ج۳،ص۹۷ والمواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ موتۃ، ج۳،ص۳۴۸ 2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب غزوۃ موتۃ،ج۳،ص۳۵۰وصحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ موتۃ من ارض الشام، الحدیث:۴۲۶۲،ج۳،ص۹۶
نگاہِ نبوت کا معجزہ
جنگ ِموتہ کی معرکہ آرائی میں جب گھمسان کارن پڑا تو حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ سے میدانِ جنگ کو دیکھ لیا۔ اور آپ کی نگاہوں سے تمام حجابات اس طرح اٹھ گئے کہ میدانِ جنگ کی ایک ایک سرگزشت کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نگاہ نبوت نے دیکھا۔ چنانچہ بخاری کی روایت ہے کہ حضرت زید وحضرت جعفر و حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شہادتوں کی خبر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ سے خبر آنے کے قبل ہی اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو سنا دی۔(2) چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انتہائی رنج و غم کی حالت میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بھرے مجمع میں یہ ارشاد فرمایا کہ زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھنڈا لیا وہ بھی شہید