Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
398 - 872
کے افسر تھے قریش کے قاصدوں نے ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صلح نامہ کی شرط کے مطابق بغیر ہتھیار کے مکہ میں داخل ہوں گے یہ سن کر کفارقریش مطمئن ہوگئے۔

چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب مقام ''یاجج'' میں پہنچے جو مکہ سے آٹھ میل دور ہے تو تمام ہتھیاروں کو اس جگہ رکھ دیا اور حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ان ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے متعین فرما دیا ۔ اور اپنے ساتھ ایک تلوار کے سوا کوئی ہتھیار نہیں رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مجمع کے ساتھ ''لبیک'' پڑھتے ہوئے حرم کی طرف بڑھے جب مکہ میں داخل ہونے لگے تو دربار نبوت کے شاعر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹ کی مہار تھامے ہوئے آگے آگے رجز کے یہ اشعار جوش و خروش کے ساتھ بلندآواز سے پڑھتے جاتے تھے کہ ؎
خَلُّوْا بَنِی الْکُفَّارِ عَنْ سَبِیْلِہٖ		اَلْیَوْمَ نَضْرِبُکُمْ عَلٰی تَنْزِیْلِہٖ
اے کافروں کے بیٹو!سامنے سے ہٹ جاؤ۔ آج جو تم نے اترنے سے روکا تو ہم تلوار چلائیں گے۔
ضَرْبًا یُّزِیْلُ الْھَامَ عَنْ مَقِیْلِہٖ 		وَیُذْھِلُ الْخَلِیْلَ عَنْ خَلِیْلِہٖ
ہم تلوار کا ایسا وار کریں گے جو سر کو اس کی خوابگاہ سے الگ کردے اور دوست کی یاد اس کے دوست کے دل سے بھلا دے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٹوکا اور کہا کہ اے عبداللہ بن رواحہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آگے آگے اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں تم اشعار پڑھتے ہو؟ تو
Flag Counter