Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
396 - 872
تعالیٰ علیہ وسلم پر تیر برسانا شروع کردیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک غلام جن کا نام حضرت مدعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا یہ اونٹ سے کجاوہ اُتار رہے تھے کہ ان کو ایک تیر لگا اور یہ شہید ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جس کا جواب ان بدبختوں نے تیروتلوار سے دیا اور باقاعدہ صف بندی کرکے مسلمانوں سے جنگ کے لئے تیار ہوگئے۔ مجبوراً مسلمانوں نے بھی جنگ شروع کردی، چار دن تک نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان یہودیوں کا محاصرہ کئے ہوئے ان کو اسلام کی دعوت دیتے رہے مگر یہ لوگ برابر لڑتے ہی رہے۔ آخر دس یہودی قتل ہوگئے اور مسلمانوں کو فتح مبین حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد اہل خیبر کی شرطوں پر ان لوگوں نے بھی صلح کرلی کہ مقامی پیداوار کا آدھا حصہ مدینہ بھیجتے رہیں گے۔

جب خیبر اور وادی القریٰ کے یہودیوں کا حال معلوم ہوگیا تو ''تیماء'' کے یہودیوں نے بھی جزیہ دے کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صلح کرلی۔ وادی القریٰ میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چار دن مقیم رہے۔ (1)

     (مدارج النبوۃ ج۲ ص ۲۶۲ وزرقانی ج۲ ص ۲۴۸ )
فدک کی صلح
جب ''فدک'' کے یہودیوں کو خیبر اور وادی القریٰ کے معاملہ کی اطلاع ملی تو ان لوگوں نے کوئی جنگ نہیں کی۔ بلکہ دربارنبوت میں قاصد بھیج کر یہ درخواست کی کہ خیبر اور وادی القریٰ والوں سے جن شرطوں پر آپ نے صلح کی ہے اسی طرح کے معاملہ پر ہم سے بھی صلح کرلی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی یہ درخواست منظور فرمالی اور ان سے صلح ہوگئی۔ لیکن یہاں چونکہ کوئی فوج نہیں بھیجی گئی
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب فتح وادی القری، ج۳،ص۳۰۱،۳۰۳
Flag Counter