| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
چنانچہ مسلمانوں نے اس تھیلے کو برآمد کرلیا۔ اس کے بعد(چونکہ کنانہ بن ابی الحقیق نے حضرت محمود بن مسلمہ کو چھت سے پتھر گرا کر قتل کردیا تھا اس لئے) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو قصاص میں قتل کرا دیا اور اس کی عورتوں کو قیدی بنا لیا ۔(1) (مدارج النبوۃ ج ۲ص ۲۴۵ و ابوداؤد ج ۲ ص ۴۲۴ باب ماجاء فی ارض خیبر )
حضرت صفیہ کا نکاح
قیدیوں میں حضرت بی بی صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ یہ بنو نضیر کے رئیس اعظم حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں اور ان کا شوہر کنانہ بن ابی الحقیق بھی بنونضیر کا رئیس اعظم تھا۔ جب سب قیدی جمع کئے گئے تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان میں سے ایک لونڈی مجھ کو عنایت فرمایئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا کہ خود جاکر کوئی لونڈی لے لو۔ انہوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لے لیا۔ بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس پر گزارش کی کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
اَعْطَیْتَ دِحْیَۃَ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ سَیِّدَۃَ قُرَیْظَۃَ وَالنَّضِیْرِ لَاتَصْلُحُ اِلَّا لَکَ(2)(ابوداؤد ج ۲ ص۴۲۰ باب ماجاء فی سھم الصفی )
یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ نے صفیہ کو دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ کردیا۔ وہ قریظہ اور بنونضیر کی رئیسہ ہے وہ آپ کے سوا کسی اورکے لائق نہیں ہے۔
1۔۔۔۔۔۔سنن ابی داود ،کتاب الخراج والفیء والامارۃ ، باب ماجاء فی حکم ارض خیبر ، الحدیث:۳۰۰۶، ج۳، ص۲۱۴ 2۔۔۔۔۔۔سنن ابی داود ،کتاب الخراج والفیء والامارۃ، باب ماجاء فی سھم الصفی،الحدیث:۲۹۹۸، ج۳ ص۲۰۹