Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
380 - 872
     حضرت امام بخاری کا بیان ہے کہ یہ غزوہ جنگ خیبر کے لئے روانہ ہونے سے تین دن قبل ہوا۔ (1)(بخاری غزوۂ ذات القرد،ج ۲ص ۶۰۳ومسلم ج۲ ص۱۱۳ )
جنگ ِخیبر
''خیبر'' مدینہ سے آٹھ منزل کی دوری پر ایک شہر ہے۔ایک انگریز سیاح نے لکھا ہے کہ خیبر مدینہ سے تین سو بیس کیلومیٹر دور ہے۔یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا اور یہاں عمدہ کھجوریں بکثرت پیدا ہوتی تھیں۔ عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی خیبر تھا۔ یہاں کے یہودی عرب میں سب سے زیادہ مالدار اور جنگجو تھے اور ان کو اپنی مالی اور جنگی طاقتوں پر بڑا ناز اور گھمنڈ بھی تھا۔ یہ لوگ اسلام اور بانئ اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے۔ یہاں یہودیوں نے بہت سے مضبوط قلعے بنارکھے تھے جن میں سے بعض کے آثار اب تک موجودہیں۔ ان میں سے آٹھ قلعے بہت مشہور ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں۔

    (۱)کتیبہ (۲) ناعم (۳) شق (۴)قموص 

    (۵)نطارہ (۶)صعب (۷)سطیخ (۸)سلالم۔ 

    درحقیقت یہ آٹھوں قلعے آٹھ محلوں کے مثل تھے اور انہی آٹھوں قلعوں کا مجموعہ''خیبر''کہلاتا تھا۔ (2) (مدارج النبوۃ ج۲ص۲۳۴ )
غزوۂ خیبر کب ہوا؟
تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنگ خیبر محرم کے مہینے میں ہوئی۔ لیکن
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ ذات القرد،الحدیث۴۱۹۴،ج۳، ص۷۹

والمواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ ذی قرد،ج۳،ص۱۱۰ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ششم ،ج۲،ص۲۳۴
Flag Counter