| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
چنانچہ حضرت خالد بن الولید(فاتح شام)اور حضرت عمرو بن العاص(فاتح مصر)بھی اسی زمانے میں خودبخود مکہ سے مدینہ جاکر مسلمان ہوئے۔(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) (سیرت ابن ہشام ج۳ ص۲۷۷ وص۲۷۸ )
مظلومین مکہ
ہجرت کے بعد جو لوگ مکہ میں مسلمان ہوئے انہوں نے کفارکے ہاتھوں بڑی بڑی مصیبتیں برداشت کیں۔ ان کو زنجیروں میں باندھ باندھ کر کفار کوڑے مارتے تھے لیکن جب بھی ان میں سے کوئی شخص موقع پاتا تو چھپ کر مدینہ آجاتا تھا۔ صلح حدیبیہ نے اس کا دروازہ بند کردیاکیونکہ اس صلح نامہ میں یہ شرط تحریر تھی کہ مکہ سے جو شخص بھی ہجرت کرکے مدینہ جائے گا وہ پھر مکہ واپس بھیج دیا جائے گا۔
حضرت ابوبصیر کا کارنامہ
صلح حدیبیہ سے فارغ ہوکر جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو سب سے پہلے جو بزرگ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے وہ حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ کفارمکہ نے فوراً ہی دو آدمیوں کو مدینہ بھیجا کہ ہمارا آدمی واپس کردیجئے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ''تم مکے چلے جاؤ، تم جانتے ہو کہ ہم نے کفارقریش سے معاہدہ کرلیا ہے اور ہمارے دین میں عہدشکنی اور غداری جائز نہیں ہے'' حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ مجھ کو کافروں کے حوالہ فرمائیں گے تاکہ وہ مجھ کو کفر پر مجبور کریں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جاؤ!خداوند کریم تمہاری رہائی کا کوئی سبب بنا دے گا۔ آخر مجبور ہوکر حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں