حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لڑائی سے واپس چلا جا!
عمرو بن عبدود یہ مجھے منظور نہیں!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تو پھر مجھ سے جنگ کر!
عمرو بن عبدود ہنس کر کہا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا
میں کوئی مجھ کو جنگ کی دعوت دے گا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیکن میں تجھ سے لڑنا چاہتا ہوں۔
عمرو بن عبدود آخر تمہارا نام کیا ہے؟
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ علی بن ابی طالب
عمرو بن عبدود اے بھتیجے!تم ابھی بہت ہی کم عمر ہومیں تمہارا خون
بہانا پسند نہیں کرتا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیکن میں تمہاراخون بہانے کوبے حدپسندکرتا ہوں۔
عمرو بن عبدود خون کھولا دینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیاحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پیدل تھے اور یہ سوار تھااس پر جو غیرت سوار ہوئی توگھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا اورحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پر تلوار کا بھرپور وار کیاحضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا،یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگامگر پھر بھی زندگی بھریہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیاحضرت علی شیر خدا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو! سنبھل جااب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد اﷲ الغالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ