بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو تحقیق حال کے لئے بنو قریظہ کے پاس بھیجاوہاں جا کر معلوم ہوا کہ واقعی بنو قریظہ نے معاہدہ توڑ دیا ہے جب ان دونوں معزز صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے بنو قریظہ کو ان کا معاہدہ یاد دلایا تو ان بدذات یہودیوں نے انتہائی بے حیائی کے ساتھ یہاں تک کہہ دیا کہ ہم کچھ نہیں جانتے کہ محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کون ہیں؟ اور معاہدہ کس کو کہتے ہیں؟ ہمارا کوئی معاہدہ ہوا ہی نہیں تھایہ سن کر دونوں حضرات واپس آ گئے اور صورتحال سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو مطلع کیاتو آپ نے بلند آواز سے ''اﷲ اکبر'' کہا اور فرمایا کہ مسلمانو! تم اس سے نہ گھبراؤنہ اس کا غم کرو اس میں تمہارے لئے بشارت ہے۔ (1)(زرقانی جلد ۲ ص۱۱۳)
کفار کا لشکر جب آگے بڑھا تو سامنے خندق دیکھ کر ٹھہر گیااور شہر مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور تقریباً ایک مہینے تک کفار شہر مدینہ کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے پڑے رہے اور یہ محاصرہ اس سختی کے ساتھ قائم رہا کہ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اورصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر کئی کئی فاقے گزر گئے۔
کفار نے ایک طرف تو خندق کا محاصرہ کر رکھا تھا اور دوسری طرف اس لئے حملہ کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی عورتیں اور بچے قلعوں میں پناہ گزیں تھے مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جہاں خندق کے مختلف حصوں پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مقرر فرما دیا تھا کہ وہ کفار کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہیں اسی طرح عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے بھی کچھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو متعین کر دیا تھا۔