Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
322 - 872
جنگِ خندق
۵ھ؁ کی تمام لڑائیوں میں یہ جنگ سب سے زیادہ مشہور اور فیصلہ کن جنگ ہے چونکہ دشمنوں سے حفاظت کے لئے شہر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تھی اس لئے یہ لڑائی ''جنگ خندق'' کہلاتی ہے اور چونکہ تمام کفار عرب نے متحد ہو کر اسلام کے خلاف یہ جنگ کی تھی اس لئے اس لڑائی کا دوسرا نام ''جنگ احزاب''(تمام جماعتوں کی متحدہ جنگ)ہے،قرآن مجید میں اس لڑائی کا تذکرہ اسی نام کے ساتھ آیا ہے۔(1)
جنگ خندق کا سبب
گزشتہ اوراق میں ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ ''قبیلہ بنو نضیر'' کے یہودی جب مدینہ سے نکال دئیے گئے تو ان میں سے یہودیوں کے چند رؤسا ''خیبر'' میں جا کر آباد ہو گئے اور خیبر کے یہودیوں نے ان لوگوں کا اتنا اعزاز و اکرام کیا کہ سلام بن مشکم وابن ابی الحقیق وحیی بن اخطب و کنانہ بن الربیع کو اپنا سردار مان لیایہ لوگ چونکہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب میں بھرے ہوئے تھے اور انتقام کی آگ ان کے سینوں میں دہک رہی تھی اس لئے ان لوگوں نے مدینہ پر ایک زبردست حملہ کی اسکیم بنائی،چنانچہ یہ تینوں اس مقصد کے پیش نظر مکہ گئے اور کفار قریش سے مل کر یہ کہا کہ اگر تم لوگ ہمارا ساتھ دو تو ہم لوگ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر سکتے ہیں کفار قریش تو اس کے بھوکے ہی تھے فوراً ہی ان لوگوں نے یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی کفار قریش سے ساز باز کر لینے کے بعد ان تینوں یہودیوں نے ''قبیلہ بنو غطفان'' کا رُخ کیااور خیبر کی آدھی آمدنی دینے کا لالچ دے کر ان لوگوں کو بھی مسلمانوں کے
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب غزوۃ المریسیع،ج۳،ص۱۷ملتقطاً
Flag Counter