Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
227 - 872
اسد اﷲ الغالب کی ذوالفقار نے ولید کو مار گرایااور وہ ذلت کے ساتھ قتل ہو گیا۔ مگر عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اس طرح زخمی کر دیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر بیٹھ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جھپٹے اور آگے بڑھ کر شیبہ کو قتل کر دیااور حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے کاندھے پر اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لائے، ان کی پنڈلی ٹوٹ کر چور چور ہو گئی تھی اور نلی کا گودابہہ رہا تھا، اس حالت میں عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا میں شہادت سے محروم رہا؟ ارشاد فرمایا کہ نہیں ہر گز نہیں! بلکہ تم شہادت سے سرفراز ہو گئے۔ حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یارسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آج میرے اور آپ کے چچا ابو طالب زندہ ہوتے تو وہ مان لیتے کہ ان کے اس شعر کا مصداق میں ہوں کہ ؎
وَنُسْلِمُہٗ حَتّٰی نُصَرَّعَ حَوْلَہٗ 		وَنَذْھَلُ عَنْ اَبْنَائِنَا وَالْحَلَائِلِ
یعنی ہم محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس وقت دشمنوں کے حوالہ کریں گے جب ہم ان کے گرد لڑ لڑ کر پچھاڑ دئیے جائیں گے اور ہم اپنے بیٹوں اوربیویوں کو بھول جائیں گے۔ (1) (ابو داؤد ج۲ ص۳۶۱ مطبع نامی وزُرقانی علی المواہب ج۱ ص۴۱۸)
حضرت زبیر کی تاریخی برچھی
اس کے بعد سعید بن العاص کا بیٹا ''عبیدہ'' سرسے پاؤں تک لوہے کے لباس اور ہتھیارو ں سے چھپا ہوا صف سے باہر نکلا اور یہ کہہ کر اسلامی لشکر کو للکارنے لگا کہ ''میں ابو کرش ہوں'' اس کی یہ مغرورانہ للکار سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جوش میں بھرے ہوئے اپنی برچھی لے
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲،ص۲۷۳،۲۷۶
Flag Counter