| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
مقتول بھائی عمرو بن الحضرمی کے خون کا بدلہ لینے کے لئے بے قرار تھا جنگ کے لئے آگے بڑھا اس کے مقابلہ کے لئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے غلام حضرت مہجع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میدان میں نکلے اور لڑتے ہوئے شہادت سے سرفراز ہو گئے۔ پھر حضرت حارثہ بن سراقہ انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حوض سے پانی پی رہے تھے کہ ناگہاں ان کو کفار کا ایک تیر لگا اور وہ شہید ہو گئے۔(1) (سیرت ابن ہشام ج۲ ص۶۲۷)
حضرت عمیر کا شوقِ شہادت
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب جوش جہاد کا وعظ فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ مسلمانو!اس جنت کی طرف بڑھے چلو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو حضرت عمیر بن الحمام انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بول اٹھے کہ یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے؟ ارشاد فرمایا کہ'' ہاں'' یہ سن کر حضرت عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا :''واہ وا'' آپ نے دریافت فرمایا کہ کیوں اے عمیر!تم نے ''واہ وا'' کس لئے کہا؟ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقط اس امید پر کہ میں بھی جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے عمیر! تو بے شک جنتی ہے۔ حضرت عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس وقت کھجوریں کھا رہے تھے۔ یہ بشارت سنی تو مارے خوشی کے کھجوریں پھینک کر کھڑے ہو گئے اور ایک دم کفار کے لشکرپر تلوار لے کر ٹوٹ پڑے اور جانبازی کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔(2)
(مسلم کتاب الجہاد باب سقوط فرض الجہاد عن المعذورین ج۲ ص۱۳۹)1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ،ص۲۵۹ 2۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب ثبوت الجنۃ للشہید ،الحدیث:۱۹۰۱، ص۱۰۵۳ تفصیلاً