| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اور خدا نے آسمان سے پانی برسا دیا تا کہ وہ تم لوگوں کو پاک کرے۔(انفال)
سرور کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شب بیداری
۱۷ رمضان ۲ ھ جمعہ کی رات تھی تمام فوج تو آرام و چین کی نیند سو رہی تھی مگر ایک سرورکائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات تھی جو ساری رات خداوند عالم سے لو لگائے دعا میں مصروف تھی۔ صبح نمودار ہوئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کے لئے بیدار فرمایا پھر نماز کے بعد قرآن کی آیات جہاد سنا کر ایسا لرزہ خیز اور ولولہ انگیز وعظ فرمایا کہ مجاہدین اسلام کی رگوں کے خون کا قطرہ قطرہ جوش و خروش کا سمندر بن کر طوفانی موجیں مارنے لگا اور لوگ میدان جنگ کے لئے تیار ہونے لگے۔
کون کب؟ اور کہاں مرے گا؟
رات ہی میں چند جاں نثاروں کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے میدان جنگ کا معائنہ فرمایا، اس وقت دست مبارک میں ایک چھڑی تھی۔ آپ اُسی چھڑی سے زمین پر لکیر بناتے تھے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس جگہ جس کافر کی قتل گاہ بتائی تھی اس کافر کی لاش ٹھیک اسی جگہ پائی گئی ان میں سے کسی ایک نے لکیر سے بال برابر بھی تجاوز نہیں کیا۔(2) (ابو داؤد ج۲ ص۳۶۴ مطبع نامی و مسلم ج۲ ص۱۰۲ غزوئہ بدر)
1۔۔۔۔۔۔پ۹،الانفال:۱۱والسیرۃ النبویۃ لابن ہشام،غزوۃبدرالکبریٰ،ص۲۵۶وشرح الزرقانی علی المواھب،غزوۃبد رالکبریٰ،ج ۲، ص۲۷۱ 2۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الجھادوالسیر،باب غزوۃبدر،الحدیث:۱۷۷۸،ص۹۸۱ وشرح الزرقانی علی المواھب،باب غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲،ص۲۶۹