Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
216 - 872
 پڑھ کر قبیلۂ بنو زہرہ اور قبیلۂ بنو عدی کے سرداروں نے کہا کہ اب مسلمانوں سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لہٰذا ہم لوگوں کو واپس لوٹ جانا چاہیے۔ یہ سن کر ابو جہل بگڑگیا اور کہنے لگا کہ ہم خدا کی قسم! اسی شان کے ساتھ بدر تک جائیں گے، وہاں اونٹ ذبح کریں گے اور خوب کھائیں گے، کھلائیں گے، شراب پئیں گے، ناچ رنگ کی محفلیں جمائیں گے تا کہ تمام قبائل عرب پر ہماری عظمت اور شوکت کا سکہ بیٹھ جائے اور وہ ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں۔کفار قریش نے ابو جہل کی رائے پر عمل کیا لیکن بنو زہرہ اور بنو عدی کے دونوں قبائل واپس لوٹ گئے۔ ان دونوں قبیلوں کے سوا باقی کفار قریش کے تمام قبائل جنگ بدر میں شامل ہوئے۔ (1) (سیرتِ ابن ہشام ج۲ ص۶۱۸ تا ۶۱۹)
کفار قریش بدر میں
کفار قریش چونکہ مسلمانوں سے پہلے بدر میں پہنچ گئے تھے اس لئے مناسب جگہوں پر ان لوگوں نے اپنا قبضہ جما لیا تھا۔ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب بدر کے قریب پہنچے تو شام کے وقت حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو بدر کی طرف بھیجا تا کہ یہ لوگ کفار قریش کے بارے میں خبر لائیں۔ ان حضرات نے قریش کے دو غلاموں کو پکڑ لیا جو لشکر کفار کے لئے پانی بھرنے پر مقرر تھے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان دونوں غلاموں سے دریافت فرمایا کہ بتاؤ اس قریشی فوج میں قریش کے سرداروں میں سے کون کون ہے؟ تو دونوں غلاموں نے بتایا کہ عتبہ بن ربیعہ،شیبہ بن ربیعہ،ابو البختر ی ،حکیم بن حزام، نوفل بن خویلد، حارث بن عامر،نضر بن الحارث، زمعہ بن الاسود، ابو جہل بن ہشام،اُمیہ بن خلف،سہیل بن عمرو، عمروبن عبدود، عباس
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ،ص۲۵۵،۲۵۶
Flag Counter