Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
212 - 872
کی اطلاع ملی توآپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جمع فرماکر صورتِ حال سے آگاہ کیا اور صاف صاف فرما دیاکہ ممکن ہے کہ اس سفر میں کفارقریش کے قافلہ سے ملاقات ہوجائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ کے لشکر سے جنگ کی نوبت آجائے۔ ارشاد گرامی سن کر حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق اور دوسرے مہاجرین نے بڑے جوش و خروش کا اظہار کیا مگر حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم انصار کا منہ دیکھ رہے تھے کیونکہ انصار نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کرتے وقت اس بات کا عہد کیاتھا کہ وہ اس وقت تلوار اٹھائیں گے جب کفار مدینہ پر چڑھ آئیں گے اور یہاں مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا معاملہ تھا۔ (1)

انصار میں سے قبیلۂ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا چہرهٔ انور دیکھ کر بول اٹھے کہ یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے ؟خدا کی قسم!ہم وہ جاں نثارہیں کہ اگر آپ کا حکم ہو تو ہم سمندر میں کود پڑیں اسی طرح انصار کے ایک اور معزز سردار حضر ت مقدادبن اسود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جوش میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں بلکہ ہم لوگ آپ کے دائیں سے، بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے لڑیں گے۔ انصار کے ان دونو ں سرداروں کی تقریر سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ (2)(بخاری غزوہ بدر ج۲ص۵۶۴)
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم، باب دوم ، ج۲،ص۸۱۔۸۳ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب۴،قول اللہ تعالٰی،الحدیث:۳۹۵۲،ج۳، ص۵مختصرًا والمواہب اللدنیۃ والزرقانی،باب غزوۃبدرالکبریٰ، ج۲،ص۲۶۵ ۔۲۶۷
Flag Counter