| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
رائے ہے کہ تم لوگ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اگر وہ کامیاب ہو کر سارے عرب پر غالب ہوگئے تو اس میں ہم قریشیوں ہی کی عزت بڑھے گی، ورنہ سارا عرب ان کو خود ہی فنا کر دے گا مگر قریش کے سرکش کافروں نے عتبہ کا یہ مخلصانہ اور مدبرانہ مشورہ نہیں مانابلکہ اپنی مخالفت اور ایذا رسانیوں میں اور زیادہ اضافہ کر دیا۔(1)
(زرقانی علی المواہب ج1 ص258و سیرت ابن ہشام ج1 ص294)قریش کا وفد ابو طالب کے پاس
کفار قریش میں کچھ لوگ صلح پسند بھی تھے وہ چاہتے تھے کہ بات چیت کے ذریعہ صلح و صفائی کے ساتھ معاملہ طے ہو جائے۔ چنانچہ قریش کے چند معزز رؤسا ابوطالب کے پاس آئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام اور بت پرستی کے خلاف تقریروں کی شکایت کی۔ ابو طالب نے نہایت نرمی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھا بجھا کر رخصت کر دیا لیکن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خدا کے فرمان فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ(2) کی تعمیل کرتے ہوئے علی الاعلان شرک و بت پرستی کی مذمت اور دعوت توحید کا وعظ فرماتے ہی رہے۔ اس لئے قریش کا غصہ پھر بھڑک اٹھا۔ چنانچہ تمام سردارانِ قریش یعنی عتبہ و شیبہ و ابو سفیان و عاص بن ہشام و ابو جہل و ولید بن مغیرہ و عاص بن وائل وغیرہ وغیرہ سب ایک ساتھ مل کر ابو طالب کے پاس آئے اور یہ کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے اس لئے یا تو آپ درمیان میں سے ہٹ جائیں اور اپنے بھتیجا کو ہمارے سپرد کر دیں یا پھر آپ بھی کھل کر ان کے ساتھ میدان میں نکل پڑیں تا کہ ہم دونوں میں سے ایک کا
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ، قول عتبۃ بن ربیعۃ فی امر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،ص۱۱۴، ۱۱۵ملخصاً والمواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،اسلام حمزۃ،ج ۱،ص۴۷۹،۴۸۰ 2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:توعلانیہ کہہ دوجس بات کاتمہیں حکم ہے۔ (پ۱۴،النحل:۹۴)