بن نوفل کہنے لگے کہ کاش! میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے زمانے میں تندرست جوان ہوتا۔ کاش !میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے باہر نکالے گی۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے (تعجب سے)فرمایا کہ کیا مکہ والے مجھے مکہ سے نکال دیں گے تو ورقہ نے کہاجی ہاں!جو شخص بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرح نبوت لے کر آیا لوگ اس کے ساتھ دشمنی پر کمربستہ ہو گئے۔
اس کے بعد کچھ دنوں تک وحی اترنے کا سلسلہ بند ہو گیا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وحی کے انتظار میں مضطرب اور بے قرار رہنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہیں گھر سے باہر تشریف لے جا رہے تھے کہ کسی نے ''یا محمد'' صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہہ کر پکارا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھاتو یہ نظر آیا کہ وہی فرشتہ (حضرت جبریل علیہ السلام)جو غار میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں ایک خوف کی کیفیت پیدا ہو گئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مکان پر آکر لیٹ گئے اور گھر والوں سے فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کمبل اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ ناگہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سورہ ''مدثر'' کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور رب تعالیٰ کا فرمان اتر پڑا کہ