سمجھنا چاہے تھا کہ نہ معلوم پھرایسا وقت آئے نہ آئے، اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو (نعوذ باللہ ) قتل کرکے لوٹنا چاہے تھا اس ارادہ سے اس نے واپسی کا مشورہ کیا۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اعلان کردیا کہ جو لوگ احدمیں ساتھ تھے وہی صر ف ساتھ ہوں اور دوبارہ حملہ کے لئے چلنا چاہے ۔اگرچہ مسلمان اس وقت تھکے ہوئے تھے مگراس کے باوجود سب کے سب تیار ہوگئے چونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اعلان فرمادیا تھا کہ صرف وہی لوگ ساتھ چلیں جو احد میں ساتھ تھے اس لئے حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ!عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم میری تمنا احدمیں بھی شرکت کی تھی مگر والد نے یہ کہہ کر اجازت نہ دی کہ میری سات بہنیں ہیں کوئی مرد اور ہے نہیں انہوں نے فرمایا تھا کہ ہم دونوں میں سے ایک کا رہنا ضروری ہے اور خود جانے کاارادہ فرماچکے تھے اس لئے مجھے اجازت نہ دی تھی۔ احد کی لڑائی میں ان کی شہادت ہوگئی، ا ب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم مجھے اجازت مرحمت فرمادیں کہ میں بھی ہمر کاب چلوں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اجازت مرحمت فرمادی انکے علاوہ اورکوئی ایسا شخص نہیں گیا جو احد میں شریک نہ ہوا۔