Brailvi Books

رَہنمائے جدول
197 - 248
کہے اور حمد نہ کرے تو جواب واجب نہیں ۔(بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۲)حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، میں نے حضور نبی کریم ،رؤف و رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ،'' جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے اور وہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
کہے تو تم اس کے لئے
یَرْحَمُکَ اللہ
کہو ۔ اور اگر وہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
نہ کہے تو تم بھی
یَرْحَمُکَ اللہ
نہ کہو۔ ''
 ( صحیح مسلم،کتاب الزھد والرقائق،باب تشمیت العاطس وکراہیۃالتثاوب،الحدیث۲۹۹۲،ص۲۹۹۲)
    (۸)بڑھیا کی چھینک کاجواب مرد، زور سے دے اور جوان عورت کا جواب دل میں دے ۔ (البتہ اتنی آواز ضروری ہے کہ جواب دینے والا خود سن لے )
 (بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۳)
        (۹)چھینکنے والا دیوارکے پیچھے ہوجب بھی جوا ب دیں ۔
(بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۳)
    (۱۰)کئی اسلامی بھائی موجود ہوں اوربعض حاضرین نے جواب دے دیا تو سب کی طرف سے جواب ہوگا مگر بہتریہی ہے کہ سارے جواب دیں ۔
(المرجع السابق،ص۱۰۳)
    (۱۱)نماز کے دوران چھینک آئے تو
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
نہ کہیں ۔
(بہار شریعت،حصہ۳،ص۴۹)
    (۱۲) آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور کسی کو چھینک آئی اور آپ نے جواب دے دیا تو آپ کی نماز فاسد ہوگئی۔
(الفتاوی الھندیہ،کتاب ما یحل وما لا یحل،الباب السا بع فی السلام وتشمیت العاطس ،ج۵،ص۳۲۶)
    (۱۳)کافر کو چھینک آئی اور اس نے
اَلْحَمْدُ اللہ
کہاتو جواب میں
یَھْدِ یْکَ اللہُ
(اللہ عزوجل تجھے ہدایت کرے )کہاجائے۔(بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۱۰۳)

    اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل! ہمیں چھینک کی سنتو ں اور آداب پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرما۔'
' اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم۔
Flag Counter