Brailvi Books

رَہنمائے جدول
195 - 248
چھینکنے کی سنتیں اور آداب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! 

    چھینکنا بھی ایک اہم امر ہے اس کی بھی سنتیں اور آداب ہیں ۔لیکن افسو س ! مدنی ماحول سے دور رہنے کے باعث مسلمانوں کی اکثریت کواس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہوتیں ، جہاں چھینک آئی زور زورسے ''آکچھی آکچھی ''کرلیا۔ ناک بھر آئی تو سنک لی او ربس ۔ ایسا نہیں ہے ، اس کی بھی سنتیں اور آداب ہمیں سیکھنے چاہیں ۔ 

     (۱)چھینک کے وقت سر جھکائیں ، منہ چھپائیں او رآوا ز آہستہ نکالیں چھینک کی آواز بلند کرنا حماقت ہے ۔
(بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۳)
حضرت عبادہ بن صامت وشداد بن اوس و حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''کسی کو ڈکار یا چھینک آئے تو آواز بلند نہ کرے کہ شیطان کو یہ بات پسند ہے کہ ان میں آواز بلند کی جائے۔''
( شعب الایمان،باب فی تشمیت العاطس،فصل فی تکریرالعاطس،الحدیث۹۳۵۵،ج۷،ص۳۲)
    (۲)جب چھینک آئے او ر
'' اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ''
 کہیں گے تو فرشتے
'' رَبِّ الْعٰلَمِیْن''
 کہیں گے ۔ اگر آپ
'' اَلْحَمْدُ الِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن ''
 کہیں گے تو معصوم فرشتے یہ دعا کریں گے ،
Flag Counter