Brailvi Books

رَہنمائے جدول
181 - 248
کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :''جب تین آدمی سفر پر روانہ ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الجہاد ،باب فی القوم یسافرون۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۶۰۹،ج۳،ص۵۱،۵۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    نگرانِ قافلہ خوش اخلاق، جذبہ اخلاص و ایثار سے آراستہ وپیرا ستہ ہونا چاہيے۔ اپنے ہم سفر اسلامی بھائیوں کی دیکھ بھال کرے ۔ بالفرض اگر شرکاء قافلہ کسی بات پر ناراض بھی ہوجائیں ، آپس میں کوئی چپقلش یا رنجش بھی ہوجائے تو حکمت عملی کے ساتھ معاملات کوسلجھا دے مگر عدل وانصاف کادامن بھی نہ چھوڑے ۔ نیز مامور بھائیوں کو بھی چاہیے کہ جہاں تک شریعت کے مطابق نگران ِقافلہ ہدایات دے ان کی بجاآوری میں ہرگز ہرگز کوتاہی نہ کریں ۔سفر میں حوصلہ بلند رکھنا چاہيے ۔ بعض اوقات سفر کی تھکان کے سبب یا آپس میں اختلاف رائے کی وجہ سے کچھ تلخیاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں ۔ ان مواقع پر صبر وتحمل کادامن نہ چھوڑیں ۔پیارومحبت سے سارے معاملات کو سلجھاتے چلے جائیں۔

    (۴)چلتے وقت عزیزوں ، دوستو ں سے قصور معاف کروائیں اور جن سے معافی طلب کی جائے ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں ۔(بہارِ شریعت،حصہ ۶،ص۱۹) 

    حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورسرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کے لئے آئے تو وہ اس کا عذر قبول کرے ،خواہ حق پر ہو یا باطل پر ،جو ایسا نہ کرے وہ میرے حوض پر نہیں آئے گا ۔''
(المستدرک للحاکم ،کتاب البر والصلۃ،باب برّو ا اباکم تبرکم ....الخ،الحدیث،۷۳۴۰،ج۵،ص۲۱۳)
Flag Counter