| رَہنمائے جدول |
(۴)دوران گفتگو ایک دوسرے کے ہاتھ پرتالی دینا ٹھیک نہیں کیونکہ تالی ، سیٹی بجانامحض کھیل کود،تماشہ اور طریقہ کفار ہے۔ (تفسیر نعیمی،ج۹،ص۵۴۹)
(۵) بات چیت کرتے وقت دوسرے کے سامنے با ربار ناک یا کان میں انگلی ڈالنا ، تھوکتے رہنا اچھی بات نہیں ۔ اس سے دو سرو ں کو گھن آتی ہے ۔
(۶)جب تک دوسرا بات کر رہا ہو ،اطمینان سے سنیں ۔ اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع نہ کردیں ۔
(۷)کوئی ہکلا کر بات کرتا ہو تو اس کی نقل نہ اُتا ریں کہ اس سے اس کی دل آزاری ہوسکتی ہے ۔
(۸) بات چیت کرتے ہوئے قہقہہ نہ لگائیں کہ سر کار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا (قہقہہ یعنی اتنی آواز سے ہنسنا کہ دوسرو ں تک آواز پہنچے ۔)(ماخوذ از مراٰۃالمناجیح،ج۶،ص۴۰۲)
(۹)زیادہ باتیں کرنے اور بار بار قہقہہ لگانے سے وقار بھی مجرو ح ہوتا ہے ۔
(۱۰)سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے: '' جب تم کسی دنیا سے بے رغبت شخص کو دیکھو اور اُسے کم گو پاؤتو اس کے پاس ضرور بیٹھو کیونکہ اس پر حکمت کا نزول ہوتا ہے۔''(سنن ابن ماجہ،کتاب الزہد ،باب الزہد فی الدنیا،الحدیث ۴۱۰۱،ج۴،ص۱۲۲)
(۱۱)حدیثِ پاک میں ہے '' جو چپ رہا اس نے نجات پائی ۔''
(شعب الایمان ،باب فی حفظ اللسان ،فصل فی السکوت عمالایعنیہ ،الحدیث ۴۹۸۳،ج۴،ص۲۵۴،جامع الترمذی ،کتاب صفۃ القیامۃ،باب (نمبر۵)الحدیث ۲۵۰۹،ج۴،ص۲۲۵ )
(۱۲)کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصدبھی ہونا چاہيے۔ اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ،
'' کَلِّمُواالنَّاسَ عَلٰی قَدْ رِ عُقُوْلِھِمْ''
(یعنی لوگو ں سے ان کی