Brailvi Books

قوم لوط کی تباہ کاریاں
43 - 45
کہ ناموں   میں  تَصغِیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں   دوسرے نام رکھے جائیں  ۔     (بہارِ شریعت ج ۳ ص ۳۵۶ )٭جو نام بُرے ہوں   ان کو بدل کر اچھا نام رکھنا چاہیے کہ    حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں   کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بُرے نام کو(اچھے نام سے ) بدل دیا کرتے تھے ۔ ( تِرمِذی ج۴ ص۳۸۲ حدیث ۲۸۴۸) ایک خاتون کا نا م ’’عا صیہ‘‘(یعنی گنہگار) تھا،  حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے نام کو بدل کر جمیلہ رکھا (مُسلِم  ص۱۱۸۱حدیث۲۱۳۹)   ٭ایسے نام مَنع ہیں   جن میں  اپنے منہ سے خود کو اچھا بتانا یعنی اپنے ’’ منہ میاں   مٹّھو‘‘ بننا پایا جائے ۔  پارہ 27 سُوْرَۃُ  النَّجْمآیت نمبر 32میں   ارشاد ِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّ ہے فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ- ترجَمۂ کنزالایمان : ’’ تو آپ اپنی جانوں   کوسُتھرا نہ بتاؤ  ۔ ‘‘ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے     ’’ فُصُولِ عِمادی ‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے : کوئی اس نام کے ساتھ نام نہ رکھے جس میں   تزکِیہ یعنی اپنی بڑائی اور تعریف کا اظہار ہو ۔ (فتاوٰی رضویہ ج ۲۴ ص ۶۸۴) مسلم شریف میں   ہے :  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ’’بَرَّہ‘‘ (یعنی نیک بی بی) نامی عورت کا نام بدل کر’’ زینب‘‘ رکھا اور فرمایا :  ’’ اپنی جانوں   کو آپ ( یعنی خود) اچّھا نہ بتاؤ ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ خوب جانتا ہے کہ تم میں   نیکو کار کون ہے ‘‘( مُسلِم  ص۱۱۸۲حدیث۲۱۴۲)٭ایسے نام رکھنا جائز نہیں   جو کفّار کیلئے مخصوص ہوں  ۔ فتاوٰی رضویہ جلد 24صَفحَہ 663 تا664پر ہے :  ناموں   کی ایک قسم کفّار سے مختص (یعنی مخصوص ) ہے جیسے جِرْجِس، پطْرُس اور یُوْحَنّاوغیرہ