( یعنی دین چھپانے والااور باطل کیلئے کو شش کرنے والا) ہوتے پایا ہے (مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص۶۸۱ ۔ ۶۸۲ ) ٭نام کے اثرات آیَندہ نسل میں بھی آ سکتے ہیں ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3 صفحہ 601پر حدیث نمبر 21ہے : ’’صحیح بخاری ‘‘میں سعید بِن مُسَیَّب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی کہتے ہیں : میرے دادا نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے پوچھا : تمہارا کیا نام ہے ؟ انھوں نے کہا : حَزْن ۔ فرمایا : تم سَہْل ہو ۔ یعنی اپنا نام’’ سَہْل‘‘ رکھو کہ اس کے معنی ہیں نرم اور’’ حَزْن‘‘ سخت کو کہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جو نام میرے باپ نے رکھا ہے اُسے نہیں بدلوں گا ۔ سعید بِن مُسَیَّب کہتے ہیں : اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم میں اب تک سختی پائی جاتی ہے ( بُخاری ج ۴ ص۱۵۳حدیث۶۱۹۳) ٭یٰسین یاطٰہٰ نام رکھنا منع ہے (فتاوٰی رضویہ ج ۲۴ ص۶۸۰) محمدیٰسین نام بھی نہیں رکھ سکتے ہاں غلام یٰسین اور غلام طٰہٰ نام رکھنا جائز ہے ٭بہارِ شریعت حصّہ 15’’ عقیقے کا بیان‘‘ میں ہے : عبدُ اللّٰہ و عبدالرحمن بَہُت اچّھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبدالرحمن اس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن کہنا حرام ہے ۔ اسی طرح عبدالخالق کو خالق اور عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے ۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر (تَص ۔ غِیْر یعنی چھوٹا کرنے )کا رواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر(یعنی چھوٹائی) ہرگز نہ کی جائے لہٰذا جہاں یہ گمان ہو