غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیکا اپنا ، والد صاحب کا اور داداجان کا مبارک نام محمد تھایعنی محمد بن محمد بن محمد ٭اولاد نرینہ کیلئے عمل : سیِّدُنا امامِ عظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے استاذِ گرامی جلیل القدر تابِعی امام عطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جو چاہے کہ اس کی عورت کے حَمل میں لڑکا ہو، اسے چاہئے اپنا ہاتھ(حامِلہ) عورت کے پیٹ پر رکھ کر کہے : اگر لڑکا ہے تو میں نے اس کا نام محمد رکھا ۔ اِن شاءَ اللّٰہُ الْعَزیز لڑکا ہی ہو گا (فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص ۶۹۰) ٭آج کلمَعاذَاللّٰہنام بگاڑنے کی وَباعام ہے اور محمد نام کا بگاڑنا تو بَہُت ہی سخت تکلیف دِہ ہے ۔ لہٰذا ہر مرد کا نام محمد یا احمد رکھ لیجئے اورعُرف یعنی پکارنے کیلئے مَثَلاً بِلال رضا ، ہِلال رضا ، جمال رضا، کمال رضااور زید رضاوغیرہ رکھ لیا جائی٭فرشتوں کے مخصوص نام پر نام رکھنا دُرُست نہیں ، لہٰذا کسی کا جبریل یا میکائیل وغیرہ نام نہ رکھئے ۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : فرشتوں کے نام پر نام نہ رکھو(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۳۹۴ حدیث ۸۶۳۶)٭ محمدنبی، احمدنبی، نبی احمد نام رکھناحرام ہے (مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ ج ۲۴ ص ۶۷۷) ٭جب بھی نام رکھیں اُس کے معنیٰ پر غور کر لیجئے یا کسی عالم سے پوچھ لیجئے ، بُرے معنیٰ والے نام نہ رکھئے مَثَلاًغَفورُالدین کے معنیٰ ہیں : دین کامٹانے والا، یہ نام رکھنا سخت بُرا ہے ٭ بُرے نام بُری تاثیر رکھتے ہیں چُنانچِہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے بُرے ناموں کا سخت بُرا اثر پڑتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ، بھلے چنگے سُنّی صورت کو آخرِ عُمر میں ’’ دین پوش اور ناحق کوش‘‘